جمعہ 27 فروری 2026 - 13:20
اصل کامیابی یہ ہے کہ امام زمان(عج) ہمیں دیکھیں: آیت اللہ جوادی آملی

حوزہ/ آیت‌اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے اپنے ایک درسِ اخلاق میں امام زمانہ علیہ السلام کی خدمت تک پہنچنے کے راستے پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ امام ہمیں دیکھیں، نہ یہ کہ ہم ظاہری طور پر انہیں دیکھ لیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی | آیت‌اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے اپنے ایک درسِ اخلاق میں امام زمانہ علیہ السلام کی خدمت تک پہنچنے کے راستے پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ امام ہمیں دیکھیں، نہ یہ کہ ہم ظاہری طور پر انہیں دیکھ لیں۔

آپ نے نقل کیا کہ ایک مرتبہ آیت‌الله محمد تقی بہجت سے سوال کیا گیا کہ ہم کیا کریں تاکہ امام زمانہ (عج) کی خدمت میں حاضر ہو سکیں؟ انہوں نے جواب دیا: “بزرگانِ دین فرمایا کرتے تھے کہ تم خود کو اچھا انسان بناؤ، حضرت تمہیں دیکھیں گے۔ بات تو تب ہے کہ وہ ہمیں دیکھیں، نہ کہ ہم انہیں دیکھ لیں۔”

آیت‌اللہ جوادی آملی نے وضاحت کی کہ تاریخ میں ایسے افراد بھی تھے جو روزانہ پانچ وقت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھتے اور بظاہر آپؐ کی زیارت کرتے تھے، لیکن حقیقی معنوں میں رسول خداؐ کی نگاہِ عنایت ان کے شاملِ حال نہ تھی۔ لہٰذا صرف ظاہری دیدار نجات کا ضامن نہیں۔

آپ نے قرآن کریم کی آیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ خداوند متعال بعض لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے: «لَا یُکَلِّمُهُمُ اللَّهُ» اور «لَا یَنْظُرُ إِلَیْهِمْ»۔ حالانکہ وہ ہر چیز کو دیکھنے اور جاننے والا ہے، مگر یہ “نگاہ” اور “کلام” تشریفی ہوتے ہیں جو خاص بندوں کو نصیب ہوتے ہیں۔

اسی طرح آیت «وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَیَرَی اللَّهُ عَمَلَکُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ» کی تفسیر اہل بیت علیہم السلام سے کی گئی ہے، یعنی ہمارے اعمال ان کے سامنے پیش ہوتے ہیں؛ لیکن خصوصی توجہ اور تشریفی نظر اُنہی کو ملتی ہے جو صحیح راستے پر قائم رہتے ہیں۔

آخر میں آپ نے فرمایا: اگر انسان درست راستے پر ثابت قدم رہے تو ولیّ عصر(عج) کی نگاہِ عنایت شاملِ حال ہوتی ہے، اور یہی کیفیت انسان کو “حیاتِ عقلی” عطا کرتی ہے — ایسی زندگی جو انسانی کمال تک پہنچاتی ہے اور جس کا انجام بھی باوقار اور بامعنی ہوتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha